اہل البیت(ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا ـ کی رپورٹ کے مطابق جہاد النکاح کا فتوی دینے والے وہابی مبلغ "محمد العریفی" نے بھی ان ہی وہابی مبلغین کے ایک رکن کے عنوان سے ٹویٹر پر اپنی اور درجنوں وہابی مبلغین کی رائے درج کرکے اس تنازعے کو ہوا دی ہے۔ العریفی کے ساتھ ساتھ کئی نمایاں وہابی مبلغنین اور مفتیوں نے خواتین کی ڈرائیوں کو سرے سے مسترد کرکے اور اس اقدام کے بارے میں خبردار کرتے ہوئے اس کو مغرب نوازی کا مظہر قرار دیا۔واضح رہے کہ آل سعود امریکہ اور اسرائیل کے خلاف حتی عوامی احتجاج کو حرام قرار دے چکے ہیں اور آل سعود کی مغرب اور یہودیت کے ساتھ آل سعود کے گٹھ جوڑ اور سیاسی لحاظ سے اس ملک کی مکمل مغرب نوازی کے خلاف تو کوئی فتوی نہیں دیتے لیکن عورتوں کی ڈرائیونگ، سیاسی مطالبات، آل سعود کے مظالم کے خلاف احتجاج اور عوام کے تمام بنیادی حقوق کے بارے میں کسی بھی بات یا اقدام کو یا تو مغرب زدگی کا نام دیں گے یا خلاف شرع قرار دیں گے لیکن وہاں کسی کو بھی یہ حق حاصل نہيں ہے کہ یہ مفتی حضرات یہ فتوے کس شریعت کی بنیاد پر دیتے ہیں؟ کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ کے زمانے میں خواتین کو پیدل چلنا پڑتا تھا؟ بہرحال ایک سعودی مفتی "فہد العیبان" نے خواتین کی ڈرائیونگ کے بارے میں کہا ہے: عورتوں کا کہنا ہے کہ وہ قانون کے مطابق ڈرائیونگ کرنا چاہتی ہیں اور ہم ان سے کہتے کہ کہ تمہارے قانونی اعمال ہم نے دیکھے ہیں، ہم نے دیکھا ہے کہ تم میک اپ کا سامان کس طرح بیچتی ہو اور اب بھی دیکھ رہے ہیں کہ دکانوں میں عورتوں کا کام مرد اور عورت کے خلط ملط ہونے اور خریدار مردوں کے ذریعے عورتوں کی اذیت و آزار کا سبب ہے!۔ انھوں نے یہ نہیں کہا ہے کہ اپنی گاڑی چلانے والی عورت کی ڈرائیونگ کا دکاندار عورت کے اس عمل سے تعلق ہی کیا ہے جو جناب مفتی کے بقول گناہ کا موجب ہےـایک دوسرے سعودی وہابی مبلغ "عوض القرنی" نے کہا ہے کہ عورتوں کی ڈرائیونگ مغرب نوازی اور مغرب سے متاثر ہونے کی علامت ہے جو منفی سماجی اور ثقافتی نتایج کا سبب ہے۔ "عبداللہ الوطبان" نامی وہابی مبلغ نے دوسرے مبلغین کے ساتھ ایک مشترکہ بیان میں سعودی عرب میں عورتوں کی ڈرائیونگ کے منفی نتائج کے بارے میں خبردار کیا ہے۔ الغریفی نے ٹویٹر پر اپنے ذاتی پیج میں وہابی مفتی "شیخ ناصر العمر" کا فتوی شائع کیا ہے جس میں انھوں نے کہا ہے کہ عورتوں کی ڈرائیونگ ان کے قانونی حقوق میں محسوب نہیں ہوتی بلکہ یہ ان کی مغرب زدگی اور مغرب نوازی کی دلیل ہے اور اسلامی معاشرے میں برائیاں پھیلنے کا سبب ہے۔ بہرصورت سعودی عرب کی خاتون کارکنان کی کوشش ہے کہ سعودی حکمرانوں سے خواتین کی ڈرائیونگ کی منظور لینے کی کوشش کررہی ہیں۔ واضح رہے کہ سعودی عرب دنیا کا واحد ملک ہے جہاں عورتوں کو ڈرائیونگ کی اجازت نہيں دی جاتی۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔/٭۔٭
22 اکتوبر 2013 - 20:30
News ID: 474811
خواتین کی ڈرائیونگ کا مسئلہ سعودی عرب ميں بڑے تنازعے میں تبدیل ہوچکا ہے حتی کہ 118 وہابی سعودی مبلغین نے عورتوں کے ڈرائيونگ کے برے انجام کے سلسلے میں خبردار کیا ہے۔